تاریخ وخدمات دارالافتاءوالقضاء

دارالافتاءوالقضاء جامعہ اسلامیہ نصرۃ الاسلام گلگت

یہ جامعہ اسلامیہ نصرۃ الاسلام کا وہ شعبہ ہے جس پر مسلمانوں خصوصاً اہالیانِ گلگت بلتستان کو اپنے شرعی مسائل کے حل کے لیے مکمل اطمینان واعتماد حاصل ہے ۔مفتیان کرام شرعی فتاوی صادر فرماکران کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کاجواب تقریری و تحریری صورت میں دیتے ہیں ۔ یومیہ کثیر تعداد میں لوگ خود حاضر ہوکر زبانی مسائل بھی پوچھتے ہیں اورفریقین کی رضامندی سے نزاعات کا شرعی تصفیہ بھی کیا جاتاہے۔اس کے علاوہ ملک وبیرون ملک سے ڈاک کے ذریعہ آنے والے سوالات کے جوابات بھی ارسال کیے جاتے ہیں۔نیز مسلمان ذاتی ، خانگی اور اجتماعی معاملات میں بذریعہ فون بھی مسائل دریافت کرتے ہیں ۔جو غیرمسلم برضا ورغبت اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں انہیں دار الافتاء میں کلمہ کی تلقین کی جاتی ہے اور”سنداسلام” بھی جاری کی جاتی ہے۔ یہ جامعہ کے اہم ترین شعبوں میں سے ایک ہے۔

دارالافتاء والقضاء سے منسلک مفتیانِ کرام

جامعہ کے اس شعبے میں کبار علماء کرام کی باہمی مشاورت سے تنازعات کے فیصلے ہوتے ہیں اور فتاویٰ جاری کیے جاتے ہیں۔ چوں کہ مہتمم حضرت مولانا قاضی نثار احمد حفظہ اللہ بذاتِ خود گلگت کے قاضی ہیں اس لیے اس شعبے کی طرف عوام الناس کثرت سے رجوع کرتے ہیں۔
رئیس دارالافتاء جامعہ اسلامیہ نصرۃالاسلام حضرت مولانا مفتی عبدالباری حفظہ اللہ ہیں جن کا آبائی تعلق ضلع دیامر سے ہے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ضلع دیامر و گلگت میں حاصل کرنے کے بعد معروف ومشہوردینی درسگاہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ محمدیوسف بنوری ٹاؤن کراچی میں سے 1970ء میں دورہ حدیث تک تعلیم حاصل کی۔ وہاں درج ذیل اکابرین اساتذہ کرام سے صحاح ستہ پڑھنے کاشرف حاصل ہوا:
(1)۔محدث العصر حضرت اقدس شیخ الحدیث علامہ محمد یوسف بنوری صاحب نوراللہ مرقدہ
(2)۔فضیلۃ الشیخ مفتی اعظم پاکستان حضرت اقدس مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب نوراللہ مرقدہ
(3)۔فضیلۃ الشیخ حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانافضل محمدصاحب سواتی نوراللہ مرقدہ
(4)۔فضیلۃ الشیخ حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانابدیع الزمان صاحب رحمۃاللہ علیہ
(5)۔فضیلۃ الشیخ حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانامصباح اللہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ
(6)۔فضیلۃ الشیخ حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانامحمدادریس صاحب رحمۃ اللہ علیہ
بعدازاں فتاویٰ نویسی یعنی تخصص فی الفقہ کاشدیدشوق پیداہوا،اسی وجہ سے دوبارہ ،دارُالافتاء والارشادناظم آبادکراچی کی طرف رخت سفرباندھااورحضرت اقدس فقیہ العصرمفتی اعظم پاکستان جناب مفتی رشیداحمدصاحب نوراللہ مرقدہ کی خدمت اقدس میں حاضری دیکرمکمل تین سال تک زیرسایہ رہ کرشرف تلمذحاصل کیا۔ ان کے تمام فتویٰ جات اگرچہ ضبطِ تحریر میں نہیں لائے جاسکے مگر تقریباً(3500)فتاویٰ جات بحمدللہ تحریرشدہ موجود ہیں۔
ان کے اور دیگر مفتیانِ کرام کے علاوہ رئیس دارالافتاء کے بیٹے جناب مولانا مفتی مطیع الرّحمٰن صاحب مستقلاً اور فاضلِ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن جناب مولانا مفتی مرغوب الرحمٰن ابن مولانا عزیز الرّحمٰن صاحب جزوقتی طور پر اسے شعبے سے منسلک ہیں ۔

Check Also

دارالافتاءوالقضاء جامعہ اسلامیہ نصرۃ الاسلام گلگت

سوال پوچھیں

آن لائن سوالات کی یومیہ مقررہ تعداد فی الحال 50 ہے۔ سوالات کی یومیہ مقررہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے