جامعہ نصرۃالاسلام کے ذرائع آمدن

جامعہ نصرۃالاسلام کے ذرائع آمدن

جامعہ اسلامیہ نصرۃ الإسلام گلگت کے تمام اخراجات عام مسلمانوں کے تعاون سے ہی چلتے ہیں۔ جامعہ غیر سرکاری علمی ادارہ ہے، اس کی کوئی خاص مستقل آمدنی نہیں، نہ ہی حکومت سے کوئی مالی امداد وصول کی جاتی ہے، الحمد للہ! جامعہ کے جملہ مصارف اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے اہل خیر حضرات کے ذریعہ پورا فرما رہے ہیں۔

جامعہ میں شروع ہی سے اس کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ ہر “مد” کی رقم صِرف اس کے مصرف میں خرچ کی جائے، زکوٰۃ کی رقم صرف مستحق طلبہ پر خرچ کی جاتی ہے، اساتذۂ کرام اور عملہ کی تنخواہیں ،تعمیرات اور دیگر مصارف عطیات سے پورے کیے جاتے ہیں۔
جامعہ میں حسابات کا ایک مستقل شعبہ ہے، جس میں محاسب (اکاؤنٹنٹ) اور ان کے کئی معاون ہیں جو آمدن اور خرچ کا باقاعدہ اندراج کرتے ہیں، زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی وصولی پر رسید جاری کرتے ہیں۔ جامعہ کے تمام حسابات سرکاری طور پر سالانہ آڈٹ کرائے جاتے ہیں۔
چندے کے سلسلے میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے تحریر فرمودہ ان آٹھ اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے جو دارالعلوم دیوبند ہی نہیں بلکہ بر صغیر کے تمام اسلامی مدارس کے لیے رہنما اصول یا دستورِ اساسی کی حیثیت رکھتے ہیں۔جامعہ الحمدللہ ان اصولوں پر کاربند رہنے کی پوری کوشش کرتا ہے اور ان کی پابندی کو کامیابی کی ضمانت سمجھتا ہے۔
1۔ اصل اول یہ ہے کہ تا مقدور کارکنان مدرسہ کی ہمیشہ تکثیر چندہ پر نظر رہے، آپ کوشش کریں اور وں سے کرائیں خیراندیشان کو یہ بات ہمیشہ ملحوظ رہے۔
2۔ابقاء طعام بلکہ افزائش طعام طلبہ میں جس طرح ہوسکے خیراندیشان مدرسہ ساعی رہیں۔
3۔ مشیران مدرسہ کو ہمیشہ یہ بات ملحوظ رہے کہ مدرسہ کی خوبی اور اسلوبی ہو، اپنی بات کی پچ نہ کی جائے، خدا نخواستہ جب اس کی نوبت آئے گی کہ اہل مدرسہ اہل مشورہ کو اپنی مخالفتِ رائے اور اوروں کی رائے کے موافق ہونا ناگوار ہو تو پھر اس مدرسہ کی بناء میں تزلزل آجائے گا۔ 

القصہ تہِ دل سے بروقت مشورہ اور نیز اس کے پس و پیش میں اسلوبیٴ مدرسہ ملحوظ رہے، سخن پروری نہ ہو، اور اس لیے ضروری ہے کہ اہل مشورہ اظہارِ رائے میں کسی وجہ سے متامل نہ ہوں اور سامعین بہ نیت نیک اس کو سنیں، یعنی یہ خیال رہے کہ اگر دوسرے کی بات سمجھ میں آجائے گی تو اگرچہ ہمارے مخالف ہی کیوں نہ ہو بدل و جان قبول کریں گے۔

 اور نیز اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ مہتمم امورِ مشورہ طلب میں اہل مشورہ سے ضرور مشورہ کیا کرے خواہ وہ لوگ ہوں جو ہمیشہ مشیرِ مدرسہ رہتے ہیں یا کوئی وارد و صادر جو علم و عقل رکھتا ہو اور مدرسوں کا خیر اندیش ہو، اور نیز اسی وجہ سے ضروری ہے کہ اگر اتفاقاً کسی وجہ سے کسی اہل مشورہ سے مشورہ کی نوبت نہ آئے اور بقدر ضرورت اہل مشورہ کی مقدار معتد بہ سے مشورہ کیا گیا ہو تو پھر وہ شخص اس وجہ سے ناخوش نہ ہو کہ مجھ سے کیوں نہ پوچھا، ہاں اگر مہتمم نے کسی سے نہ پوچھا تو پھر اہل مشورہ معترض ہوسکتے ہیں۔
4۔ یہ بات بہت ضروری ہے کہ مدرسین باہم متفق المشرب ہوں اور مثل علماء روزگار خود بیں اور دوسروں کے درپئے توہین نہ ہوں۔ خدا نہ خواستہ جب اس کی نوبت آئے گی تو پھر اس مدرسہ کی خیر نہیں۔
5۔ خواندگی مقررہ اس انداز سے ہو جو پہلے تجویز ہوچکی ہو یا بعد میں کوئی انداز مشورے سے تجویز ہو ورنہ یہ مدرسہ اول تو خوب آباد نہ ہوگا اور اگر آباد ہوگا تو بے فائدہ ہوگا۔
6۔اس مدرسہ میں جب تک آمدنی کی کوئی سبیل یقینی نہیں جب تک یہ مدرسہ ان شاء اللہ بشرط توجہ الی اللہ اسی طرح چلے گا اور اگر کوئی آمدنی ایسی یقینی حاصل ہوگئی جیسی جاگیر یا کارخانہ تجارت یا کسی امیر محکم القول کا وعدہ تو پھر یوں نظر آتا ہے کہ یہ خوف و رجاء جو سرمایہ رجوع الی اللہ ہے ہاتھ سے جاتا رہے گا اور امداد غیبی موقوف ہوجائے گی اور کارکنوں میں باہم نزاع پیدا ہوجائے گا، القصہ آمدنی اور تعمیر وغیرہ میں ایک نوع کی بے سروسامانی ملحوظ رہے۔
7۔سرکار کی شرکت اور امراء کی شرکت بھی زیادہ مضر معلوم ہوتی ہے۔
8۔ تامقدور ایسے لوگوں کا چندہ موجب برکت معلوم ہوتا ہے جن کو اپنے چندہ سے امید ناموری نہ ہو، بالجملہ حسن نیت اہل چندہ زیادہ پائیداری کا سامان معلوم ہوتا ہے۔
انھی اصول ہشت گانہ کو مدنظر رکھنے سے برصغیر میں مضبوط و مستحکم دینی تعلیمی نظام کی بنیاد پڑی۔ اس کا بنیادی اصول یہ تھاکہ مدارس کو حکومت و امراء کی سرپرستی سے نکال کر جمہور اور عوام سے جوڑا گیا ۔ عوام کے چندوں سے چلنے والے اس نظام میں استحکام بھی تھا اور سماج کے ہر طبقہ سے بھر پور ربط بھی،جس کی وجہ سے تعلیم سماج کے ہر حلقہ میں پہنچنے لگی۔

 دارالعلوم دیوبند اور اس کے نہج پر قائم ہونے والے اداروں کے ذریعہ مسلمانوں کے ہر طبقے میں تعلیم و تعلم کا فروغ ہوا جو اس سے پہلے اتنی وسیع سطح پر کبھی نہ ہوا تھا۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس ذریعے سے ہونے والی آمدن کا بنیادی مصرف تحصیل علم کے لیے آنے والوں کے لیے مفت تعلیم اور وظائف کا انتظام ہے۔بڑے بڑے ماہرین تعلیم بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ عوام کی تعلیم مفت ہونی چاہئے اور جب تک یہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے گا تعلیم کا عام ہونا مشکل ہے، جدید تعلیم کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ صرف ان لوگوں کے لیے خاص ہو کر رہ گئی جو اپنے اخراجات کے خود متحمل ہو سکیں، گویا ہمارے اس خطے میں عصری تعلیم کے حصول میں رفاہ عامہ کے تحت فروغِ تعلیم کا مقصد تقریباً معدوم ہے۔

 مگر ہمارے قدیم تعلیمی نظام میں مصارف کو طلبہ کے بجائے درس گاہوں کے ذمے رکھا گیا ہے، اس تعلیمی نظام میں تعلیم پر کوئی فیس نہیں لی جاتی بلکہ طلبہ کے لیے زیر درس کتابوں کا انتظام بھی مفت کیا جاتا ہے، بلکہ نادار اور غریب طلبہ کو درس گاہوں کی جانب سے کھاناکپڑا اور دوسری ضروریات کے لیے نقد وظائف بھی دیئے جاتے ہیں،

 حتی کہ دارالعلوم میں شروع ہی سے اس امر کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے کہ غریب نادار طلبہ کے قیام وطعام، مصارف علاج اور دوسری لازمی ضروریات کی کفالت کا بار طلبہ کے بجائے جامعہ کی جانب سے برداشت کیا جائے، الایہ کہ جو طلبہ خود اپنی کفالت پر قدرت رکھتے ہیں، وہ طعام و لباس اور بعض دوسرے مصارف خود برداشت کرتے ہیں۔
جامعہ کے اکاؤنٹ میں عطیات، صدقات اور زکاۃ وغیرہ جمع کروائے جاسکتے ہیں۔ اکاؤنٹ میں رقم بھیجنے کے ساتھ جامعہ کے ای میلnusratulislampk@gmail.comپر یاوٹس ایپ پر03003955122 یہ تفصیل بھی ضرور ارسال کیجیے کہ کل رقم کتنی ہے اور کس مد میں ہے؟ (مثلاً زکاۃ، صدقہ فطر، فدیہ، کفارہ، منت، نفلی صدقہ یا عطیہ وغیرہ میں سے کیا ہے؟)
اس کارِ خیر میں حصہ لینے کے لیے صرف حلال آمدنی ہی استعمال کی جائے۔ حرام آمدنی مثلاً رشوت، سود، انشورنس اور بینک وغیرہ کی آمدنی سے اس کار خیر میں حصہ نہ لیں!جزاکم اللہ خیراً ۔جامعہ کااکاونٹ نمبردرج ذیل ہے:
بینک کا نام : Allied Bank Pakistan
بینک کا کوڈ : 014
برانچ اینڈ کوڈ: GILGIT 0578
اکاؤنٹ نمبر : 0010067683980011
اکاؤنٹ ٹائٹل: JAMIA ISLAMIA NUSRAT UL ISLAM برائےای/انٹرنیٹ بینکنگ ،اے ٹی ایم،موبائل فنڈ ٹڑانسفر: 05780010067683980011
IBAN: PK17ABPA0010067683980011

جامعہ اسلامیہ نصرۃ الإسلام حکومتِ پاکستان کے قانونی ضوابط کے مطابق ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے۔

Check Also

جامعہ کے اہم روابط

جامعہ کے اہم روابط

حضرت مولانا قاضی نثار احمد حفظہ اللہ (مہتمم) جامعہ اسلامیہ نصرۃ الإسلام،عید گاہ روڈ،کنوداس،گلگت پاکستانفون …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے