پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تازہ تخمینے کے مطابق حالیہ سیلابوں میں 551 بچوں سمیت قریباً 1500 سے زیادہ لوگ موت کا شکار، بے شمار آشیانےتباہ اور لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں ۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ضروری ادویہ اور طبی سامان کا ذخیرہ محدود ہو گیا ہے، خراب گزرگاہیں، ٹوٹے ہوئے یا خستہ حال پل متأثرین تک رسائی میں شدید رکاوٹ بن رہے ہیں اوربیماریوں کی نگرانی اورریفرل میکانزم بھی بری طرح متاثر ہواہے۔
خصوصاً گلگت بلتستان میں سیلاب سے متأثر ہونے والے افراد کی پریشانیاں فوری حل ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں۔ اگرچہ نقصانات کے ازالے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کی طرف سے چند علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اورکچھ ادائیگیاں بھی ہوئی ہیں مگر بہت سے دوسرے پسماندہ علاقے حکومتی تعاون اور ہنگامی امداد کے شدید مستحق اور منتظر ہیں۔
وہ تواللہ جزائے خیر عطاء فرمائے علماء کرام ، رفاہی اداروں اور سماجی شخصیات کوکہ انھوں نےسیلاب زدہ علاقوں میں اپنی بساط کے مطابق بلا تفریق ِمذہب و مسلک نقد رقوم کی تقسیم اور فراہمی ء خوراک کے ذریعے اپنے مجبور و بے کس ہم وطنوں کی خدمت کو یقینی بنایا اور خیرخواہی کی ایک شاندار مثال قائم کی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ہمیں ان مصائب سے محفوظ رکھنا اور مستحقین کی مدد کے قابل بنانا ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے جس کا شکر اداء کیا جانا ہم پر لازم ہے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس شکربجالانے کی ادنیٰ سی صورت اِن ضرورت مند بہن بھائیوں کی خدمت کے جذبے کو مہمیز دینا اور مزید آگے بڑھ کر تعاون کرنا ہے۔ہمارا فرض بنتا ہے کہ سردیوں سے قبل متأثرین کی اپنے گھروں میں واپسی یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش بروئے کار لائیں ۔
ابتدائی سروے کے نتیجے میں دیکھا گیا ہے کہ جہاں پتھر بلاقیمت دستیاب ہے وہاں مختصر ضروریات کا حامل ایک چھوٹا سا کچا گھر تقریباً دو لاکھ پچاس ہزار روپوں میں، اور اگرلوہے کی چادر کی چھت والے دو کمرے،کچن، واش روم بنائیں تو یہ تخمیہ چار لاکھ روپوں تک جا پہنچتا ہے۔ UOPAD کی پوری کوشش ہے کہ جن علاقوں میں حکومت نے گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے وہاں کم ازکم پچاس گھروں کی تعمیر کے لیے بھرپور کوشش کی جائے۔
الحمدللہ ثم الحمدللہ قائدِ گلگت بلتستان و کوہستان، مہتمم جامعہ اسلامیہ نصرۃ الاسلام گلگت حضرت مولانا قاضی نثار احمد مدظلہ اب تک اپنے قائم کردہ رفاہی ادارےUOPAD )یونائیٹڈ آرگنائزیشن فار پیس اینڈ ڈویلپ منٹ (کے زیرِ اہتمام مختلف مدات میں ساٹھ لاکھ روپے نقد او سینکڑوں خواراک پیکیجز (غذر ، دیامر اور گلگت سمیت مختلف اضلاع میں )تقسیم فرماچکے ہیں۔ لیکن گھروں کی تعمیر کے اس منصوبے کو کامیاب بنانا ابھی باقی ہے۔ہماری عطیات دہندگان سے گزارش ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ قوت سے تباہ حال عوام کی مدد کو پایہء تکمیل تک پہنچائیں، مزید ثواب کمائیں اور عند اللہ خوب ماجور ہوں۔

نصرة الاسلام