شیخ الاسلام حضرت مولاناحسین احمدمدنی رحمہ اللہ کے خصوصی شاگرداورپروانے حضرت مولانا قاضی عبدالرزاق نوراللہ مرقدہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی ایک ایسی علمی وروحانی شخصیت گزری ہیں جو بلاتفریقِ مسلک دلوں کے بادشاہ تھے.
آپ کا آبائی تعلق ضلع غذرکے گاؤں گلمتی کے ایک علمی خاندان سے ہے، آپ کے والد کا نام حضرت شیخ عبیداللہ مرحوم تھا۔شیخ رحمہ اللہ قریباً۱۹۰۶ء میں پیداہوئے تھے۔شیخ عبیداللہ ایک علمی اورروحانی شخصیت ہونے کے علاوہ عملی مجاہدبھی تھے۔
ان کی جرأت اور بہادری کے کئی قصے مشہور تھے ۔ابتدائے جوانی ہی میں اپنے والد عبد الشکور کے ہمراہ راجہ گوہرامان مرحوم کے لشکرکے ساتھ سکھوں کے خلاف جہادی مہمات میں شریک رہے، ایک معرکے میں آپ کے ہاتھوں تلوارٹوٹ جانے کی وجہ سے آپ کو “کھنگرپھٹو”(تلوارتوڑنے والے)کے نام سے یادکیاجاتاہے۔
حضرت قاضی عبد الرزاق رحمہ اللہ مرحوم کوگھرسے یہی جرأت وبہادری ورثے میں ملی تھی۔قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم گلگت میں اپنے سسر قاضی عبدالرحیم اورچلاس میں مولاناشعیب رحمہما اللہ سے حاصل کی۔اس طرح کوہستان، کولی، چنارکوٹ کے علاقوں میں بھی تعلیم حاصل کرتے رہے۔اس دوران حضرت قاضی عبدالرحیم اورچنارکوٹ کے قاضی صاحب کے حکم اورمشورہ پردارالعلوم دیوبندتشریف لے گئے۔زمانہ طالب علمی سے آپ محنتی اورذہین وذکی شمارہوتے تھے۔
طلبہ میں ہونے والے علمی مناظروں میں نمایاں مقام اور اچھی شہرت رکھتے تھے۔آپ کی سندکے مطابق ۴شوال ۱۳۴۹ھ کودارالعلوم دیوبندمیں داخل ہوئے اوربروزمنگل ۱۸ جمادی الاولیٰ ۱۳۵۶ھ کوسندفراغت حاصل ہوئی۔آپ کاسندنمبر۲۰۲۵ہے۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ نے خصوصی سند واجازت عنایت فرمائی تھی ۔آپ کے اساتذہ کرام میں شیخ الاسلام ؒ کے علاوہ حضرت مولانا قاری محمدطیب قاسمی مہتمم دارالعلوم دیوبند،حضرت مولاناشمس الحق افغانی،حضرت مولاناعبدالحق کاکاخیل، حضرت مولانااعزازعلی،حضرت مولانارسول خان،حضرت مولانامحمدابراہیم،حضرت مولاناسیداختررحمہم اللہ جیسے اکابر علماءتھے۔
دارالعلوم دیوبند کی تعلیم کے دوران فلسفہ اورمنطق میں مہارت رکھنے کے حوالے سے بھی آپ جانے پہچانے جاتے تھے۔امتحانات میں امتیای حیثیت حاصل کرتے تھے اورانجمن افغان کے ناظم اعلیٰ بھی رہے ہیں۔عربی اورفارسی کے ادیب تھے۔پشتومیں بھی کمال رسوخ حاصل تھا۔آپ نے دارالعلوم سے علمی اورروحانی فیض کے علاوہ آزادی ،حریت اور جرأت کاایساسبق سیکھاتھاجس کے آثارآپ کی حیات کے ہر ہر لمحہ میں نمایاں نظرآتے تھے۔
دارالعلوم سے فراغت کے بعدگلگت تشریف لائے اور جامع مسجدگلگت میں امامت وخطابت وقضاء کی مسندپرفائز ہوئے۔علاقے کے مخصوص حالات کے تناظر میں ہمہ وقت دینی خدمات میں مشغولیت رہتی اور مصروفیات وخدمات کاسلسلہ آپ کی حیات عزیزمیں مسلسل رہا،یہاں تک کہ دنیاسے رحلت فرما گئے۔آپ کی خدمات اورسوانح کیلئے مستقل تصنیف کی ضرورت ہے(رب تعالیٰ ہمیں اس توفیق سے نوازے
۔آمین)،آپ کو علاقے کے عوام وخواص میں یکساں مقبولیت حاصل تھی،سب ہی آپ کے گرویدہ تھے۔آپ علم کےسمندر، عمل کے شیدائی ،ہمت وحوصلہ کے پہاڑ،جلالی اورمجاہدمزاج بزرگ تھے ۔آپ اکثریہ شعر پڑھاکرتے تھے؎
ہمت بلند دار کہ پیشِ خدا و خلق باشد بقدر ہمتِ تو اعتبار تو
علامہ اقبال کایہ شعرآپ کے وردزباں ہواکرتاتھا؎
ہرکہ رمزِمصطفیٰ فہمیدہ است شرک رادرخوف مضمردیدہ است
گلگت میں بارہاآپ کوہائی سکول میں تدریس کی پیشکش کی گئی جسے آپ نے قبول نہیں فرمایا۔نامساعد حالات اور ناموافق اسباب سے قطع نظر اعلاء کلمۃ اللہ اورحق کی سرفرازی کیلئے باطل سےایسے ٹکرائے کہ ان ایمان افروز واقعات کاسن کرانسان دنگ رہ جاتا ہے۔
این سعادت بزوربازونیست تانہ بخشندخدائے بخشندہ
دیوبندسے ہی انگریزدشمنی ورثے میں ملی تھی اورانگریزسے نفرت کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی۔انگریزوں سے اکثرمڈبھیڑرہتی تھی،اس حوالے سے کئی ایمان افروزواقعات مشہورہیں۔آپ اکثررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت میں فریفتہ اورمتفکررہتے تھے۔صحابہ کرام کی محبت وعقیدت اوران کے ناموس کے تحفظ کے سلسلے میں نہ کبھی کوئی لمحہ فردگزاشت کیانہ ہی کسی قسم کی مصلحت پسندی اختیارکی۔
ناسمجھ لوگوں کی اصلاح کیلئے قرآن وحدیث کی روشنی میں صحابہءکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام کوایسااجاگرکیا کہ بجاطورپرکہاجاسکتاہے کہ آپ نے بھر پور حق اداکیا۔دیوبندسے فیض حاصل کرنے والے اس کوہ گراں نے اپنے اکابرسے حاصل کی ہوئی میراث اورفیض کوعلاقے میں ایسی حکمت عملی ،فراست اور جرأت سے پھیلایاکہ انسان خلوص دل سے پکاراُٹھتاہے کہ
شادبادوشادزی اے سرزمین دیوبند ہندمیں تونے کیااسلام کاجھنڈابلند
نصرت الٰہی شامل حال رہی ،آپ نے شرک وبدعات اورقبرپرستی کانہایت حکمت عملی اورشب وروزمحنت سے ان کاخاتمہ کیا۔گلگت آتےہی قرآن و حدیث کے درس کاسلسلہ جاری فرمایا۔آپ کے علمی تبحرکی شہرت پورے علاقے میں پھیلی ہوئی تھی ۔
درس نظامی کی تدریس کاسلسلہ آغاز فرمایا۔ دوردرازسے آئے ہوئے سیکڑوں طلبہ گلگت شہرکے مختلف مساجدمیں رہ کرآپ سے فیض حاصل کرتے تھے۔شہرکی مساجدبیرونی طلبہ سے بھری رہتی تھیں اور عوام الناس طلبہ کی خاطر مدارات کی ہرممکن کوشش کرتے تھے ۔حضرت قاضی صاحب مرحوم شہرکے مسلمانوں کی اس خدمت وسخاوت اورمعاونت کادعاؤں کے ساتھ تذکرہ فرماتے تھے ۔
جامع مسجدمیں صبح سے شام تک درس وتدریس کا سلسلہ جاری رہتا تھا ۔مختصرعرصے میں ہزاروں شاگرداورسینکڑوں کواسلام کے خالص تصور”فکرِدیوبند” سے آراستہ اورتحریک ِدیوبندسے پیراستہ فرمایا۔آپ نے اپنے شاگردوں کی ایک کثیرتعدادکوابتدائی تعلیم وتربیت دینے کے بعد دارالعلوم دیوبندبھیجا آپ کے شاگردصرف ونحومیں نہایت مہارت رکھتے تھے۔صرف ونحوپرزیادہ توجہ فرماتے تھے۔شاگردوں میں شفقت ومحبت کے ساتھ آپ کی مارکی یادیں بھی باقی ہیں ۔
آپ کے شاگردوں میں مولاناگلشیرخان مرحوم،مولاناعبدالحمیدمرحوم،مولاناعبدالرشیدمرحوم،مولانانذیراللہ خان مرحوم، سابق مہتمم جامعہ اسلامیہ گلگت،مولاناعزیزالرحمن مرحوم اورمولاناحبیب اللہ مرحوم ابنائے دارالعلوم ہونے کاشرف رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ مولاناحرمت خان گلگت،مولاناعبادت خان گلگت،مولانانقاب شاہ یسین،مولانارحمت یارچکرکوٹ، مولاناعبدالحنان جگلوٹ،مولانامحمدرضا جگلوٹ،مولاناشیرافضل ؒ چلاس،مولانامحمدافسرچلاس، مولانامحمدایازچلاس، مولانا عبدالقدوس چلاس، مولانامہترجان مرحوم تانگیر، مولانا شہزادہ خان مرحوم تانگیر، مولاناعبدالکریم تانگیر، مولاناعبدالشکورتانگیر، مولاناحاجی اکبرداریل، مولانا امام حسین داریل،مولاناگلمست خان داریل، مولاناعبدالغفارداریل،مولاناعیسیٰ خان استور،جیسے محترم علمائے کرام کوآپ سے شرف تلمذحاصل رہاہے۔
یہ اکابرآپ کے قافلے میں شامل ہوکرآپ کے دست وبازواورمعاون بنتے رہے۔اس کے علاوہ پورے علاقے میں کوئی ایساعالم نہیں جس نے بالواسطہ یابلاواسطہ آپ سے فیض حاصل نہ کیاہو۔
آپ شیخ الاسلام حضرت مولاناحسین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردرشیداورعاشق ہونے کے حوالے سے متحدہ ہندوستان کے حامی تھے۔پاکستان بننے کے بعدآپؒ نے حضرت مدنی ؒسے اجازت طلب کرکے شمالی علاقہ جات کی آزادی کیلئے جدوجہدفرمائی۔ برصغیرسے انگریزنے جاتے ہوئے شمالی علاقہ جات کومہاراجہ کشمیرکے حوالہ کرگیاتھا۔
مہاراجہ حکومت اپنااثررسوخ بڑھانے اوررعب جمانے کیلئے مختلف حربےاستعمال کررہی تھی۔ان سخت ترین حالات میں آپ نے سب سے پہلے مہاراجہ حکومت کے خلاف جمعہ کے روزمرکزی جامع مسجد گلگت میں ولولہ انگیزاورایمان افروزخطاب فرمایااورمسلمانوں کوآزادی پراُبھارا۔آپ نے فرمایاکہ
“چارہندوتم پرحکومت کررہے ہیں،اُٹھواورمیدان میں اُترو،ان کے خلاف لڑناجہادہے۔اٹھوقربانیاں دواور آزادی حاصل کرو۔نظام واسلام اورقرآن وسنت کی حکمرانی تم پرفرض ہے۔”
آپ کے اس خطاب سے غلامی کے دورمیں بعض لوگوں پرلرزہ طاری ہوایہ چہ میگوئیاں کررہے تھے کہ اب حکومت آپ کوگرفتارکرکے کشمیربھیجے گی۔رب تعالیٰ کافضل وکرم شامل حال رہا،مہاراجہ حکومت کوگرفتار کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔آپ کے شاگردوں اورعقیدت مندنوجوانوں کی ایک بڑی تعدادنے آپ کے اعلان پرلبیک کہا۔
اس اعلان کے ساتھ علاقے میں آزادی کاجذبہ رکھنے والے دوسرے افرادکوبھی حوصلہ ملا۔راجہ بابرخان کے ساتھ اہم نشستیں ہوئیں۔آئندہ کیلئے پروگرام تشکیل دیاگیا راجہ بابرخان سے ملاقات کیلئے خودراجہ نے ماسٹردولت شاہ مرحوم اورغلام محمد(المعروف گون) کوآپ کے پاس بھیجاتھا۔آپ رات کومعمول کا لباس بدل کرعلاقائی لباس میں گلگت چھاونی کے مشاورتی اجلاس میں جایاکرتے تھے ۔
مذہبی حوالے سے آپ کویہ اعزازحاصل رہاکہ آپ اپنے رضاکاروں کے ساتھ مسلح ہوکرمیدان عمل میں آئے تھے۔ دیسی بندوقوں،تلواروں اورکلہاڑیوں سے لڑائی کے بعد گھنساراسنگھ کو گرفتار کیا گیا۔ یکم نومبر۱۹۴۷ء کوگلگت آزادہوا۔آزادی کے بعد آپ کی یہی جدوجہدجاری رہی کہ پاکستان سے الحاق ممکن ہوا۔آپ نے پاکستان کاجھنڈاجامع مسجدگلگت میں لہرایا۔
آپ نے اپنی تحریک اس وقت تک جاری رکھی جب تک شمالی علاقہ جات انگریز، ہندؤں کی دست برد سے آزاد ہوکر پاکستان سے ملحق نہ ہوئے۔یہ الگ المیہ ہے کہ جس عظیم مقصدکیلئے آزادی حاصل کی گئی تھی۔اس سے پوراملک محروم ہے۔راجہ بابرخان کی جرأت وخدمات کی آپ تعریف فرماتے تھے۔
خودراجہ صاحب بھی آپ کی شجاعت وخدمات کااعتراف اورتذکرہ کرتے تھے۔مولاناعبدالحنان مدظلہ جگلوٹ آپ کے مشورے سے لداخ تک مجاہدین کولے کرگئے۔پورے ملک کی طرح شمالی علاقہ جات کی آزادی میں بھی مشایخ دیوبندکاعظیم کردار رہاہے۔
آپ نے ۱۹۵۳ء میں انجمن نصرۃ الاسلام کی بنیادڈالی۔موجودہ جامعہ اسلامیہ نصرۃالاسلام کیلئے تین سوکنال اراضی حاصل کرکے ایک عظیم درسگاہ اور دارالعلوم دیوبندکی ایک شاخ قائم فرمائی۔جوپورے علاقے میں علماء دیوبندکی خدمات کی عظیم یادگارہے۔
بعدازاں فتح باغ گلگت میں جہاں عیدکی نمازپڑھا تے تھے ،آپ نے عیدگاہ کوبھی جامعہ اسلامیہ منتقل فرمایا۔ جامعہ میں دینی طلبہ کے علاوہ سکول پڑھنے والے دیامر،غذرسے آئے ہوئے طلبہ بھی رہائش رکھتے تھے۔ان کی تعلیم وتربیت کیلئے استاذمقررفرمایا۔
آپ نے FCRکے خاتمے کی تحریک کی بھرپورحمایت کی ۔1971ءکوFCRکے خاتمے کے بعدآپ نے وقت کے تقاضوں کے مطابق ضرورت محسوس فرمائی کہ اب یہاں کے مسلمانوں کی دینی اورسیاسی راہنمائی ،نظم ورابطے کیلئے ایک متحدہ پلیٹ فارم ہونا چاہئے۔
اس مقصدکیلئے تنظیم اہل السنت والجماعت شمالی علاقہ جات وکوہستان کی بنیادڈالی۔اور۳۱۳علماء کرام پرمشتمل مرکزی شوریٰ تشکیل دی۔
آپ اس تنظیم کے بانی اورامیررہے۔آپ علاقے میں پیداہونے والے ہرفتنے کاتعاقب فرماتے رہے۔عوام کی اصلاح، عقائدکی درستگی، توحیدوسنت کی اشاعت وترویج میں گراں قدرخدمات انجام دیں۔
دیوبندکے یہ سپوت ،بطل حریت مملکت خداداد پاکستان میں نفاذاسلام کے علمبرادراورعظیم داعی تھے۔ ناموس صحابہ رضی اللہ عنہم پرآنچ آنے کوہرگزقبول نہیں کیا۔
بعض ناعاقبت اندیش لوگوں نے ناموس صحابہ رضی اللہ عنہم پرتنقیدوتنقیص کی توآپ نے سختی سے مواخذہ کیا اوردفاع فرمایا۔ اس حوالے سے کئی بارآپ کوگرفتارکیاگیا۔لیکن گلگت کی تاریخ شاہدہے کہ حکومت آپ کوچندگھنٹے سے زیادہ گرفتارنہ رکھ سکی ۔مسلمان جذبہ ایمان سے سراپااحتجاج ہوئےپورے علاقے میں مسلمان آپ کے اشارے کو بطورِ حکم قبول کرتے تھے ۔
1975ء کوآپ کی گرفتاری پر آنے والے عظیم لشکرتھلیچیاورپڑی بنگلہ کے میدان کی یادیں مشہورہیں۔ مگرآپ نے اپنی بھرپور دینی و سماجی طاقت کااظہارموقع بموقع کرکے دکھایا۔ آپ علاقے میں امن پسندی اوراکابر کے اعتدال پسندانہ تسلسل کے امین تھے۔
اللہ پاک کی طرف سے عطاء کردہ اپنی اعلیٰ ظرفی، خداد صلاحیت اورتدبرسے مشکل ترین حالات میں ثابت قدمی ا ختیار فرماتے تھے۔آپ کے مخالف بھی آپ کے عظیم حوصلے اور احسانات کااعتراف کیے بغیرنہیں رہ سکتے۔الفضل بماشھدت بہ الاعداء!
شمالی علاقہ جات کے دینی اورسیاسی معاملات میں حضرت مولاناغلام غوث ہزاروی ،حضرت مولانامفتی محمود،شیخ القرآن حضرت مولاناغلام اللہ خان رحمہم اللہ سے مشاورت اورمعاونت حاصل فرماتے رہتے تھے۔شمالی علاقہ جات کی غیرآئینی صورت حال کے بارے میں آپ کانہایت اصولی موقف تھا۔آج تک تنظیم اہل السنت والجماعت اس موقف کی امین ہےکہ شمالی علاقہ جات کشمیرکاحصہ ہے۔
انھیں آزادکشمیراسمبلی اورکونسل میں نمائندگی دی جائے۔آزادکشمیرسپریم کورٹ اورہائی کورٹ کادائرہ اختیارگلگت تک بڑھایاجائے۔شمالی عالقہ جات کی پسماندگی کیلئے خصوصی تحفظات فراہم کئے جائے اورجہادکشمیرکوتیزترکیاجائے۔
1953ء اور1974ء کی تحریک ختم نبوت(علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) میں آپ نہایت جذبہ ء ایمانی سے میدان عمل میں آئے۔فلسطین کے مسلمانوں پرظلم کے خلاف 1967ء میں عظیم الشان مظاہرہ کرکے حکومت پردباوڈالاتھاکہ ہمیں فلسطین جاکرجہادکرنے کاموقع فراہم کیاجائے۔
1977ء کی تحریکِ نظام مصطفی ﷺ ٰ میں بھی آپ نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔1980ء کے دارالعلوم دیوبندکے صدسالہ جلسے میں بالکل آخری دنوں گلگت سے تشریف لے گئےاوردستاربندی کراکر تشریف لائے۔
آج شمالی علاقہ جات میں صدائے حق کابلندہونا،دعوت تبلیغ کی چلت پھرت ،بدعات کاخاتمہ ،عوام الناس میں عقائدحقہ کا فروغ اورباہمی ہم آہنگی ،توحیدوسنت سے بھراایمانیی جذبہ ،صحابہ کرام رضٰ اللہ عنہم کے ساتھ والہانہ محبت اورعقیدت کا دلوں میں موجزن ہونا وغیرہ ذلک ، اللہ پاک کے کرم سے دارالعلوم کے فیضان ِسنّت اورآپ کی محنت اور کوشش کاتسلسل ہے۔اللہم بارک لنافی مااعطیتنا
آپ 23جون 1986ء کواس دارفانی سے رحلت فرماگئے۔جامعہ نصرۃالاسلام کی بنیاد رکھتےوقت کی گئی نصیحت کے مطابق عیدگاہ کے پہلومیں اجتماعی قبرستان جو بنایاگیا تھا اس میں سپردخاک ہیں۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے،جنت الفردوس عطاء فرمائے اور ہم سب کو اسلاف کے نقشِ قدم پرچلنے کی توفیق سے نوازے، ہمین اور ہمارے ملک ِ پاکستان کو اسلام شیدائی اور گہوارا بنائے اور جس مقصد کے لیے یہ ملک ہم نے حاصل کیا تھا اسے پایہءتکمیل نصیب فرمائے۔ آمین وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پید
نصرة الاسلام
